ڈھاکہ3؍اگست(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)بنگلہ دیش کی پولیس نے ڈھاکامیں ایک کیفے پرہوئے حملے کے ذمہ داروں کو شناخت کر نے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان مبینہ ذمہ دارافراد کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے پردو ملین ٹکا کے انعام کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔پولیس انسپکٹر جنرل شاہد الحق کے مطابق گزشتہ ماہ ڈھاکا کے ایک کیفے میں ہوئے حملے کے ماسٹرمائنڈتمیم چودھری نامی ایک شخص اور ضیاء نامی ایک سابقہ آرمی افسر ہیں۔ الحق نے مزیدکہاکہ ہم مخبروں کے نام شائع نہیں کریں گے۔ عسکریت پسندوں نے بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکا میں ہولے آرٹیسن بیکری نامی کیفے پر یکم جولائی کو حملہ کیا تھا اور وہاں موجود بیس شہریوں کو ہلاک کرنے کے بعدباقی افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں بیشتر افراد غیر ملکی تھے، جن میں سے نو کا تعلق اٹلی سے، سات کاجاپان سے،ایک کا بھارت سے، دو کا بنگلہ دیش سے اور ایک کا ریاست ہائے متحدہ امریکا سے تھا۔اس حملے میں دوسکیورٹی اہلکارہلاک ہوئے تھے جبکہ کمانڈو آپریشن میں چھ مشتبہ عسکریت پسند بھی مارے گئے تھے۔ ڈھاکا پولیس نے اس کارروائی کے لیے کالعدم تنظیم جمیعت المجاہدین بنگلہ دیش کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔ گو کہ اس کارروائی کی ذمہ داری جہادی تنظیم داعش نے قبول کی تھی لیکن بنگلہ دیشی حکومت کا کہنا ہے کہ اس جنوبی ایشیائی ملک میں داعش کا کوئی وجود نہیں ہے۔اطلاعات کے مطابق تمیم چوہدری بنگلہ دیشی نژاد کینیڈین شہری ہے، جو قریب تین برس قبل بنگلہ دیش واپس آ گیا تھا۔ بنگلہ دیش میں حالیہ کچھ برسوں سے شدت پسندی میں اضافہ ہوا ہے، جہاں لبرل دانشور شخصیات، بلاگرز اور مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے۔سن 2005میں جمیعت المجاہدین بنگلہ دیش نے تمام بنگلہ دیش میں سلسلہ وار بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کی تھی جن میں تیس افراد کی ہلاکتیں ہوئیں تھیں جبکہ250سے زائد افراد زخمی ہو گئے تھے۔ مسلم اکثریتی ملک بنگلہ دیش میں شرعی قانون نافذ کرنے کی مہم چلا نے والے اس گروپ کو سن دو ہزار پانچ میں ہونے والے بم حملوں کے بعدکالعدم قراردے دیا گیا تھا۔
شامی خانہ جنگی، ادلب میں کلورین گیس کا استعمال
دمشق3؍اگست(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)شام میں باغیوں کے زیر قبضہ کام کرنے والی ایک امدادی تنظیم کے مطابق گزشتہ شب صوبہ ادلب کے علاقوں میں خطرناک زہریلی گیس کلورین کا استعمال کیا گیا ہے۔ عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سراقب کے ہسپتال میں اس گیس سے متاثر ہونے والے تینتیس افراد کو لایا گیا ہے،جن میں اٹھارہ خواتین اور دس بچے بھی شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ گیس ہیلی کاپٹروں کے ذریعے فضا میں پھیلائی گئی تھی تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ اس کارروائی کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ دوسری جانب شامی شہر حلب کے اطراف میں سخت لڑائی جاری ہے جہاں باغی حملہ کر کے شہر کے گرد حکومت کے محاصرے کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گزشتہ روز اسی علاقے میں باغیوں کے ایک حملے میں کم از کم تیس شہری ہلاک ہوگئے تھے۔